ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل غوثیہ اسٹریٹ سے گذرنے والی شرابی ندی گٹر اور کچروں کے ڈھیرمیں تبدیل؛ ندی کی صفائی کے لئے عوام دے رہے ہیں تنظیم پر زور

بھٹکل غوثیہ اسٹریٹ سے گذرنے والی شرابی ندی گٹر اور کچروں کے ڈھیرمیں تبدیل؛ ندی کی صفائی کے لئے عوام دے رہے ہیں تنظیم پر زور

Sat, 03 Jun 2023 13:25:03    S.O. News Service

بھٹکل 3 جون (ایس او نیوز) بھٹکل میونسپالٹی حدود کے غوثیہ اسٹریٹ سے گذرنے والی شرابی ندی ایک طرف پمپنگ اسٹیشن سے بار بار ڈرینیج کا گندہ پانی چھوڑے جانے سے گٹر میں تبدیل ہوچکی ہے وہیں ندی کنارے کچروں کا اتنا زیادہ ڈھیر جمع ہے کہ پورا علاقہ گندگی میں ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔  ندی سےاُٹھنے  والی بدبو سے ایک طرف علاقہ کے لوگ پریشان ہیں تو دوسری طرف غوثیہ اسٹریٹ سے مُنڈلی کی طرف جانے کےدوران لوگ اپنی ناک کو  ہاتھ سے دبا کر گذرنے پر مجبور ہیں۔ ندی کنارے  کچروں کے ڈھیردیکھ کرمقامی لوگوں پر بھی سوالیہ نشان اُٹھائے جارہے ہیں اور ندی کی حالت زار دیکھنے کے لئے آنے والے ذمہ داران کچروں کو میونسپالٹی کی گاڑی والوں کو سونپنے کے بجائے ندی  میں  پھینکے جانے پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ مگرمقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شرابی ندی مختلف علاقوں سے گذرتی ہے اورچونکہ غوثیہ اسٹریٹ کے  پُل کی طرف ندی میں گٹر کا پانی چھوڑے جانے سے بہت زیادہ مقدار میں  کیچڑ جمع ہے اوریہاں ندی میں   پانی کی سطح  نہ کے برابر ہے ، اس لئے کسی بھی علاقہ میں پھینکے جانےوالا کچرہ غوثیہ اسٹریٹ پُل پر آکر جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

غوثیہ اسٹریٹ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم لوگ ندی میں کچرہ نہیں پھینک رہے ہیں، ہم میونسپالٹی سے آنے والی کچرہ گاڑی میں ہی اپنا کچرہ جمع کرارہے ہیں، مگر دوسرے علاقوں کے لوگ اپنا کچرہ ندی میں پھینک رہے ہیں جواُن کے  علاقوں سے بہہ کرہمارے علاقہ میں جمع ہورہا ہے۔

بتاتے چلیں کہ بار بار پمپنگ اسٹیشن سے گندہ پانی چھوڑے جانے سےندی میں اس قدر کیچڑ جمع ہے کہ یہاں سمندر کا صاف پانی نہیں پہنچ رہا ہے، دیکھا جائے تو ڈونگر پلی، ڈارنٹا ، خلیفہ محلہ اور مشما محلہ سے غوثیہ اسٹریٹ تک شرابی ندی میں مٹی اور کیچڑ کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ  ندی کی سطح بے حد کم ہوگئی ہے، یہی وجہ ہے کہ سمندر کا صاف پانی  ان علاقوں میں نہیں پہنچ پارہا ہے۔ لوگ مقامی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم  پر زور دے رہے ہیں  کہ ندی کے اندر پڑی مٹی اور کیچڑ کو نکالنے اور ندی  کو گہرا کرنے کی طرف توجہ دے۔ چونکہ اس بار تنظیم کی حمایت سے کانگریس اُمیدوار نے شاندار جیت درج کی ہے، عوام چاہتے ہیں کہ عربوں کا قافلہ جس تاریخی شرابی ندی سے گذر کر  بھٹکل کے مشما اسٹریٹ اُترا تھا، اُس شرابی  ندی کو واپس اُس کے شاندار  ماضی کی طرف لے جایا جائے۔

مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے  کہ قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے لئے ضروری ہے کہ وہ   مقامی رکن اسمبلی منکال وئیدیا، جو   وزارت کے عہدہ پر بھی فائز ہوچکے ہیں،  کی مدد سے بڑے پیمانے پر ندی کی صفائی ستھرائی کا کام کرے اور علاقہ میں پھیلی گندگی کو دور کرنے کی طرف توجہ دے۔

ندی کنارے جمع کچروں کے ڈھیر کے تعلق سے پوچھے جانے پر علاقہ کے کونسلر فیاض مُلا  نے بتایا کہ ندی سے کچروں کو نکالنا میونسپالٹی حدود میں نہیں آتا، بلکہ یہ کام محکمہ آبپاشی کے ماتحت آتا ہے، انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے ندی کنارے اتنا زیادہ کچرہ نہیں دیکھا گیا تھا، مگراِس بار  ندی کنارے کچروں کا ڈھیر جمع ہے، جسے دیکھتے ہوئے وہ محکمہ آبپاشی کو میمورنڈم پیش کر نے کا منصوبہ بنارہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس تعلق سے ضرورت پڑنے پر مقامی وزیر منکال وئیدیا سے بھی رابطہ کرکے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

بتاتے چلیں کہ بھٹکل  کا ڈرینیج غوثیہ اسٹریٹ میں واقع پمپنگ اسٹیشن میں جمع ہوتا ہے اوریہیں سے پمپ کرکے ڈرینج کو قریب پانچ کلو میٹر دوروینکٹاپور ندی میں بہایا جاتا ہے۔ اگر کبھی پمپنگ اسٹیشن کے موٹرس کام کرنا بند کردیتے ہیں یا مشین یا پائپ میں کچھ خرابی پیدا ہوجاتی ہے تو پھر ڈرینیج کا گندہ پانی شرابی ندی میں چھوڑدیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک وقت کی صاف ستھری ندی جسے نہانے، تیرنے اور کپڑے دھونے کے لئے استعمال کرتے تھے اور اس صاف ستھری ندی کی وجہ سے اطراف کے کنووں میں  میٹھا پانی  عوام کو میسر تھا، آج  حالت یہ ہے کہ   ایک طرف ندی میں پانی ہی نہیں ہے، تو دوسری طرف  بار بار گھٹر کا گندہ پانی چھوڑے جانے سے ندی  گھٹر کے نالے میں تبدیل ہوچکی ہے۔ ندی خراب ہونے کے ساتھ ہی اطراف کے علاقوں کے سینکڑوں کنویں بھی برباد ہوچکے ہیں۔


Share: